words per minute
3
MudasserJamil
00:00
Speed
جب آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کو صبح آٹھ بج کے باون منٹ پر اسلام آباد ، کشمیر اور خیبر پختون خوا میں زلزلہ آیا تو پہلی بار درپیش اتنی بڑی آفت سے نمٹنے کے لیے کوئی جامع حکمتِ عملی یا ادارہ اور ایک چھت تلے بھاری ضروری آلات یا متعلقہ اداروں کے ہنگامی و پیشہ ورانہ رابطے کا کوئی تصور نہیں تھا۔
چنانچہ اشد ضرورت محسوس ہوئی کہ اس طرح کی ناگہانی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کوئی موثر مرکزی ادارہ اور دیگر زیلی تنظیمیں تشکیل دی جائیں۔
پاکستانی تاریخ کے تباہ کن ترین زلزلے کے دس سال بعد
بالاکوٹ کے شہری اب بھی فالٹ لائن پر بیٹھے ہیں
اس واسطے نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا قیام عمل میں آیا۔ وفاقی و صوبائی سطح پر اس کا ایک ڈھانچہ بنایا گیا اور بنیادی ذمہ داری یہ طے پائی کہ وقت آنے پر وہ دیگر ایمرجنسی اداروں کو ایک چھتری تلے لا کر انہیں مربوط ہنگامی امدادی قوت میں بدل دے گا۔
یہ بھی ضرورت محسوس ہوئی کہ گذشتہ جنگوں میں بہتر کارکردگی دکھانے والے قدیم محکمہ شہری دفاع میں جدید روح پھونکی جائے۔ نئے رضاکار بھرتی کیے جائیں اور پرانی رضاکار فہرستوں کو تازہ کیا جائے۔ تعلیمی اداروں سمیت مختلف محکموں اور تنظیموں کے رضاکاروں کو قدرتی آفات سے نمٹنے اور ضرورت کے وقت ایمرجنسی اداروں کا ہاتھ بٹانے کے لیے جدید مشقیں کروائی جائیں جن میں ضروری آلات کے استعمال کی تربیت بھی شامل ہو۔
اس وقت چھ شہروں (کراچی ، لاہور ، فیصل آباد ، پشاور ، کوئٹہ ، مظفر آباد) میں سول ڈیفنس ٹریننگ سکول قائم ہیں (پچھلے پانچ برس کے دوران سول ڈیفنس کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق 40 ہزار سے زائد رضاکاروں کو کئی طرح کے ایمرجنسی کورسز کروائے گئے ہیں)۔