words per minute

3

DanishAhmad1415486


00:00

Speed

نامہ نگار کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا کہ جے ٹی کے کسی بھی حصے سے صرفِ نظر نہیں کرسکتے اور عدالت قانون کے مطابق فیصلہ دے گی۔ بدھ کو ہونے والی سماعت میں جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر لندن کے فلیٹس میاں شریف کی ملکیت تھے تو اس کا حصہ وزیر اعظم نواز شریف کو بھی ملا ہوگا۔ جس پر وزیر اعظنم کے وکیل نے کہا کہ اُن کے موکل نے تو قطر میں ہونے والی سرمایہ کاری سے بھی فائدہ نہیں اُٹھایا۔ اُنھوں نے نیب کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت کوئی بھی شخص اُن جائیدادوں کے بارے میں جواب دہ نہیں ہے جو اُن کے بچوں کے نام پر ہوں۔ بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ہل سٹیل کے کاروبار میں نواز شریف کو 88 فیصد منافع ملا جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ صرف 20 فیصد منافع ملا ہے اور گذشتہ چھ سال کے دوران اُنھیں ایک ارب17 کروڑ روپے منافعے کی مد میں ملے۔ بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہل سٹیل کا ایشو ابھی زندہ ہے اور اس کو کسی منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔ سماعت کے دوران حدیبیہ پیرز ملز کے مقدمے کا معاملہ سامنے آیا تو جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اس مقدمے میں دیے گئے اپنے بیان حلفی سے انکاری ہیں تو اُنھیں دی جانے والی معافی بھی غیر موثر ہوگی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں اسحاق ڈار بطور وعدہ معاف گواہ کے طور پر پیش ہوئے تھے۔
words per minute
0
wpm
accuracy
0%
Text Practice - Time 429 - English

words per minute