words per minute

3

GADASSISTANT


00:00

Speed

وں تو خان صاحب پہلے ہی دن سے اس بات کا دعویٰ کر رہے تھے کہ 29اپریل کو ہونے والا جلسہ تاریخی ہو گا۔اب کی بار مسٹر خان کے لہجے میں اتنا اطمینان تھا کہ اپنے پرائے ،چھوٹے بڑے،حامی مخالف سب ہی 29اپریل کا انتظار کرنے لگے۔میں اپنی شدید خواہش کے باوجود اس تاریخی جلسے کا عینی شاہد نہ بن سکا۔تا ہم میڈیا کہ آنکھ سے جو دیکھا وہ ناقابل بیان تھا،بے مثال تھا اور تاریخی تھا۔ 2011کے جلسے کی طرح اس جلسے میں بھی اکثریت اس نوجوان نسل کی تھی جو عمران خان سے پہلے پاکستانی سیاست کو محض کار بیکار سمجھتے تھے۔ملک کے دور دراز سے آئے کارکنا ن نے جلسے کو رونق بخشی تو اہلیان لاہور بھی کسی سے پیچھے نہ رہے۔کسی نجی چینل نے جلسے کے شرکا کی تعداد 5لاکھ تو کسی نے 7لاکھ بتائی ۔وہ میڈیا ہاوس جسے تازہ تازہ رابطے بحال ہوئے تھے وہ بھی اس جلسے کے ڈرون شاٹس لے کر اسکو تاریخی ثابت کرنے میں لگا رہا۔ مخالفین اس بار جلسے میں شرکا کی تعداد کو جھٹلا نہ سکے تو لاہور کے باہر سے لوگ لانے کا راگ الاپنے لگے۔خیر جلسہ یقیناًتاریخی تھا ،بہت سے تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان بھٹو کے بعد وہ پاکستان کے خوش نصیب سیاسی رہنما ہے جنہوں نے لوگوں کے اتنے بڑے اژدہام سے خطاب کیا۔مجھے شائد یہ رش ،یہ ہجوم ،یہ مجمع اتنا متاثر نہ کرتا کیونکہ یہ سب 2011میں بھی تھا اگرچہ اتنا بڑا نہیں تھا ۔ کل کے جلسے کی شاندار بات تحریک انصاف کے چئیر مین کا خطاب تھا۔خطاب سنا تو اندازہ ہوا کہ مسٹر خان کے لہجے کی متانت اور سنجیدگی بتا رہی تھی کہ وہ کسی بڑی ذمہ داری کے لیے خود کو تیار کرچکے ہیں ۔کچھ لطیف طبیعت کے لوگ تو تقریر سے پہلے ترانے کی دھن کو بھی خاص انداز سے دیکھ رہے ہیں۔نپے تلے الفاظ، مدلل بیانات اور جامع تقریر عمران خان کے روایتی اوئے توئے اور تو تکار والے لہجے سے کوسوں دور تھی۔ کپتان کے 11نکات بتا رہے تھے کہ وہ قوم کی آواز اور ضرورت سمجھ چکے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اس جلسے سے کیا تبدیلی آئے گی ،ایسا جلسہ نہ سہی لیکن ایک شاندار جلسہ تو عمران خان 2011میں بھی کر چکے ہیں۔اتنا بڑا جلسہ کرنا بلاشبہ خود میں ایک کمال ہے لیکن عوام کو جلسہ گاہ سے پولنگ بوتھ تک لانا ایک مکمل سائنس ہے۔عمران اس سائنس کو کتنا سمجھ پائے ہیں یہ تو انتخابات کا نتیجہ ہی بتائے گا۔
words per minute
0
wpm
accuracy
0%
Text Practice - Time 823 - English

words per minute