words per minute

9

Naimat_Ali


00:00

Speed

سچی ہمدردی ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ایران کے شہر میں ایک سوداگر رہتا تھا جس کا نام راوند تھا۔ وہ بہت امیر اور مالدار تھا اس کے پاس کئی ما ل مویشی تھے ایک دفعہ حج کا مہینہ قریب تھا اس نے سوچا کہ اللہ نے اسے بہت مال اور دولت سے نوازہ ہے کیو نہ وہ حج کرکے آجائے لہذا وہ حج کی تیاریوں میں لگ گیا یہ اس وقت کی بات ہے جب سفر کےلیے ہوائی جہاز ہوتے تھے اور نہ ہی گاڑیاں لوگ پیدل سفر کیا کرتے تھے اور قا فلوں کی شکل میں حج کیلیے جایا کیا کرتے تھے راوند بھی ایک قا فلہ جو حج کیلیے جارہا تھا میں شامل ہوگیا اور سفرِ حج پر روانہ ہوا راستے میں قافلہ کسی شہر میں جا کر ٹہرگیا تا کہ کچھ آرام اور کھانے پینے کی اشیاء خریدی جاسکیں۔ قافلے کے تمام لوگ اور راوند بھی شہر میں اپنی اپنی ضرورت کی اشیاء خریدنے کےلیے پھیل گئے راند ایک بازار میں داخل ہونے ہی والا تھا کہ اس نے دیکھا کہ ایک کچرے کا ڈھیر ہے اور ایک بڑھیا اس میں سے کچھ ایسے تلاش کر رہی ہے کہ جیسے کچھ گم ہو گیا ہوتو راوند وہا ں بڑھیا کو دیکھنے ٹہر گیا کچھ دیر بعد بڑھیا نے وہاں سے ایک مردہ مرغی تلاش کی اور اسے صاف کیا اور اپنے پھٹے پرانے دوپٹے میں چھپا کر چل پڑی۔ راوند یہ دیکھ کر حیران ہوا اور آنکھ بچا کر بڑھیا کا پیچھا کرنے لگاکچھ دیر کے بعد بڑھیا ایک خستہ حال دکان کے قریب جاکر رک گئی اور ایک دروازے پر جاکر دستک دی وہ دروازہ اتنا خستہ تھا کہ اس پر کئی سوراخ تھے جیسے ہی دروازہ کھلا چار چھو ٹے بچے اس بڑھیا سے لپٹ گئے اور کہنے لگے: " امی! ہمیں بھوک لگی ہے آپ ہمارے لیے کچھ کھانے کا لینے گئے تھی کیا لائی ہیں۔" اس بڑھیا نے جواب دیا کہ بیٹا یہ دیکھو! میں تمہارے لیے مرغی لائی ہوں۔ کھاؤ گے تو بڑا مزہ آئے گا۔ اور اپنا منھ دوسری طرف کر لیا تاکہ اس کے آنسو اس کے بچے نہ دیکھ سکیں۔ راوند یہ سب دیکھ رہا تھا اس کا دل یہ دیکھ کر دہل گیا اور وہ سوچنے لگ گیا کہ یا اللہ ما متا ایک ماں سے اس کے بچوکیلیے کیا تک کرواتی ہے وہ اندر چلا گیا اور بڑھیا سے مخا طب ہو کر کہا بڑی بی! یہ ایک ہزار سونے کی اشرفیا ں ہیں یہ آپکی میرے پاس امانت تھی میں واپس لوٹانے آیا ہوں وہ بڑھیا بولی میری کوئی امانت نہیں میں تو یہاں اکیلی رہتی ہوں اور میرے شوہر کو اس دنیا سے گزرے ہوئے بھی ایک عرصہ ہوا تو یہ امانت کسی اور کی ہوگی۔ راوند نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح یہ اشرفیوں کا تھیلا وہ بڑھیا کو دےدے لیکن وہ بڑھیا لینے کیلیے تیا ر ہی نہ تھی۔ آخر کار راوند نے کہا کہ یہ تھیلا لیں لیں میں سب جانتا ہو کہ آپ یہ مرغی کہا سے لائی ہیں تو اس بڑھیا کے آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ رونے لگ گئی اور اشرفیو کا تھیلا لے کر راوند کو دعائیں دینے لگ گئی راوند واپس اپنے قافلے میں آیا اور واپس جانے کی تیاری کرنے لگا قافلے والوں کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اسے کوئی ضروری کام یاد آیا ہے وہ نمٹا کر پھر حج کیلیئے جائے جبکہ حقیقت میں راوند کے پاس حج کو جانے کےلیے جو مال و دولت تھی وہ تو ساری اس بڑھیا کو دے چکا تھا یہ کہہ کر راوند واپس اپنے گھر کی طرف آرہا تھا کہ ایک سوداگر اسے راستے میں ملا اس نے راوند کو روکا اور کہا کہ میاں میرا نوکر بیماری کی وجہ سے میرے ساتھ نہیں آسکا مجھے ایک ساتھی کی ضرورت ہے جو میرے ساتھ حج کےلیے جائے اور واپس بھی آئے۔ راوند نے یہ سنا تو فورا جانے کےلیے تیار ہو گیا اس طرح اس نے حج کر لیا۔ اب چونکہ راوند نے اپنی ساری جمع پونجی تو اس بڑھیا کو دے دی تھی تو واپس گھر آکر محنت مزدوری کرکے اپنا گزر بسر کرنے لگا ایک دن کام سے واپسی پر راوند کو ایک شخص جو کہ سفید لباس میں گھوڑے پر تھا نے راوند کو روکا اور ایک پوٹلی دی اور ساتھ میں کہا کہ جناب یہ آپکی امانت تھی میرے پاس یہ لےلیں راوند نے پوٹلی کھولی تو اس میں دس ہزار اشرفیاں تھی راوند پوچھنے کےلیے کہ یہ امانت کس نے دی ہے اس سوار کی طرف اپنا رخ کیا تو وہ سوار ٖغائب ہو چکا تھا۔ نتیجہ: نیکی کر دریا میں ڈال جو دوسروں کی مدد کرتے ہیں اللہ انکی مدد کرتا ہے۔ تحریر: محمد شہباز
words per minute
0
wpm
accuracy
0%
Text Practice - Time 1367 - English

words per minute