words per minute
13
TaimoorBajwa
00:00
Speed
جب قوم کے محافظ ہی قاتل بن جائیں تو عوام انصاف اور تحفظ کے لئے کس کے پاس جائیں؟ آئے دن سوشل میڈیا پر پولیس اہلکاروں کی عوام کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی وڈیوز منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ پولیس گردی کا تازہ ترین واقعہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب اسلام آباد میں پیش آیا جہاں انسدادِ دہشت گردی اسکواڈ اسلام آباد کے اہلکاروں کی فائرنگ سے 22سالہ نوجوان طالبعلم اسامہ ندیم جاں بحق ہو گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی مشکوک لگی، نہ رُکنے پر گاڑی پر فائرنگ کی جبکہ مقتول کے والد کا کہنا ہے کہ اُن کے بیٹے کی ایک روز قبل اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی تھی جس پر اُنہوں نے اسامہ کو مزا چکھانے کی دھمکی دی تھی۔ آئی جی اسلام آباد محمد عامر ذوالفقار خان نے وقوعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دیں۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد 5پولیس اہلکاروں مدثر مختار، شکیل احمد، سعید احمد، محمد مصطفیٰ اور افتخار کو معطل اور گرفتار کرکے اُن کے خلاف مدعی کی درخواست پر تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ تاہم یہ پولیس گردی کا پہلا واقعہ نہیں، اِس سے قبل بھی اِس طرح کے واقعات میں اور دورانِ تفتیش کئی بےگناہ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ گزشتہ سال جنوری میں ہونے والا سانحہ ساہیوال اب بھی خون
کے آنسو رلاتا ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس ہی وہ محکمہ ہے جو دہشت گردی کیخلاف عوام کی پہلی ڈھال اور معاشرے میں امن و امان قائم رکھنے کا ذمہ دار ہے اور عوام پولیس کے جوانوں کی دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں دی جانے والی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں لیکن اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پولیس غنڈہ گردی کرتی پھرے۔ پولیس کا یہ رویہ تبدیل ہونا چاہئے، اِس ضمن میں پولیس اصلاحات وقت کی ناگزیر ضرورت بن چکی ہیں جبکہ عوام کو بھی پولیس اہلکاروں کیساتھ تعاون کرنا چاہئے۔