words per minute

4

HamidRazaRajpoot


00:00

Speed

کوئی کتنا مشہور ہے۔ اسکے کتنے فین یا فالورز ہیں۔ ان باتوں سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نہ یہ باتیں مجھے متاثر کرتی ہیں۔ کہہ کون رہا ہے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کہہ کیا رہا ہے؟ میں اسکی ایک مثال دیتا ہوں کہ میرا بھائی Muneeb Ahmad Chadhar رائٹر نہیں ہے۔ ایک سپیشل بچوں کے پرائمری سکول میں ٹیچر ہے۔ مگر آپ اس سے ملیں زندگی اور اسکی بے ثباتی اور حقیقت کے متعلق بات کریں۔ کسی بھی موضوع پر بات کریں۔ آپ حیران رہ جائیں گے اتنی چھوٹی عمر میں اتنی میچورٹی اس نے کہاں سے حاصل کر لی۔ کسی سے متاثر ہو کر کسی کو کاپی کرنے والے ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں۔ 2018 میں ایک فلم آئی تھی۔ ٹھگز آف ہندوستان۔ کاسٹ عامر خان، امیتابھ بچن، کترینہ کیف، فاطمہ ثنا شیخ اور محمد ذیشان ایوب جیسے قابل ترین اداکار تھے۔ بجٹ کی بات کریں تو 2.2 ارب انڈین روپے لگے تھے۔ پائی ریٹس آف دی کیربئین کی کاپی تھی اور سکرپٹ انتہائی فضول تھا تو باکس آفس پر پہلے دن ہی فلاپ ہو گئی۔ حالیہ Adipush کو دکھ لیں 7 ارب انڈین روپے میں بننے والی فلم کتنی بری طرح فلاپ ہوئی ہے۔ پربھاس ، سیف علی خان اور کریتی سانن جیسی کاسٹ بھی انتہائی کمزور اور بے معنی سکرپٹ کو کامیاب نہ کر سکے۔ بہت کم بجٹ کی فلمیں بھی بہت کامیاب ہوتی ہیں۔ کنگنا رناوت کی ایک فل۔ کوئین اسکی صرف ایک مثال ہے۔ کامیاب ان کو انکا سکرپٹ کرتا ہے نہ کہ اس فلم میں کام کرنے والے اسٹارز۔ اپنی زندگی کا اسکرپٹ خود لکھئیے۔ کسی کے سکرپٹ کو اپنی زندگی کی فلم میں اپلائی کرنے کی کوشش کریں گے تو بری طرح ناکام ہونگے۔ کامیابی چاہے کسی بھی فیلڈ میں ہو وہ سوچ بدلنے سے آتی ہے۔ دیکھا دیکھی کئے گئے کام کتنے کامیاب ہوتے دیکھے ہیں؟ ایسے لوگ کبھی بھی کچھ بڑا نہیں کر پاتے۔ یقین مانیں مشہور ہونا نرا عذاب ہے۔ میں اپنی بتاؤں تو اپنا سرکل محدود کر رہا ہوں۔ ہر کسی کو رپلائی کرنا ہر کام کو سننا ممکن ہی نہیں ہے ۔ کہ اتنے زیادہ لوگوں کے ساتھ دوستی اور میل ملاپ ہوتے ہوئے کچھ بڑا اور نیا تخلیق کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ میں دوستوں کو فی الحال اگنور کرکے جو بھی کروں گا اسکا الٹی میٹ فائدہ انکو ہی ہوگا۔ سو کامیاب و نامور لوگوں کی زندگیوں کو پڑھا ہے تو یہی چیز کامن پائی ہے۔ کہ وہ بہت زیادہ سوشل نہیں تھے۔ خیر تب تو سوشل میڈیا بھی نہیں تھا۔ رابطوں کے ذرائع ہی محدود تھے۔ اب بھی بڑے لوگ ویسے ہی ہیں۔ اپنی پرائیویسی اور کام کرنے کی لگن میں کسی بھی دوسری شے کو حائل نہیں ہونے دیتے۔ اور وہ حقیقت میں بڑے کام کر جاتے ہیں۔ ان کو شہرت انکی زندگی میں تو شاید کم ہی مل پائے مگر ان کا نام ہمیشہ انکی فیلڈ میں یاد رکھا جاتا ہے۔ خطیب احمد
words per minute
0
wpm
accuracy
0%
Text Practice - Time 865 - English

words per minute