words per minute
21
AG_AG
00:00
Speed
کل عنایہ بڑے دنوں بعد گھر آئی۔ پتہ نہیں اسے کیا سوجھی مجھے کہتی ہے دابادائی۔۔ کیا وجہ ہے آپ گھر کے ڈومیسٹک ہیلپ پر کبھی غصہ نہیں کرتے بلکہ الٹا اگر کوئی بات ہو تو بھی ان کی سائیڈ لیتے ہیں۔یہ بات اس نے دو تین دفعہ کی تو مجھے سوچنا پڑا کہ میں ایسا کیوں کرتا ہوں۔ مجھے حیرانی بھی ہوئی کہ اس نے اس بات کو نوٹ کیا ہے۔ وہ میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی تو میں نے ایک گہرا سانس لے کر کہا اس کی چند وجوہات ہیں۔بڑی تو یہ ہے میں مزاجا ایسا بندہ ہوں۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کبھی کسی ہوٹل ویٹر، ملازم، ڈومیسٹک ہیلپ یا ورکر پر غصہ یا شائوٹ کیا ہو۔بچپن میں گائوں گھر میں اماں کو دیکھا وہ بابا کے ساتھ ہماری زمینوں پر کام کرنے والے مزدورں سے بہت شفقت سے پیش آتی تھیں۔ ہمارے بیلی (کھیتوں کے ملازم) ہمارے ساتھ تندور پر ہی روٹی کھاتے تھے جہاں ہم سب کھاتے تھے لہذا ہمارے ذہنوں میں اماں نے ہوا نہیں بھری کہ ہم کوئی آسمان سے اتری مخلوق ہیں۔پھر جب میں 1987 میں لیہ کالج گیا تو ہوسٹل میں چار سال گزارے۔ اماں ہر ماہ مجھے بہن کی سکول تنخواہ سے خرچہ دیتی تھی تو پچاس روپے الگ دیتں کہ یہ تمہارے نہیں بلکہ ہوسٹل کے ملازمین /گارڈ کو دینے ہیں جو صفائی کرتے ہیں یا سرو کرتے ہیں۔۔ انہیں دس دس روپے دینے ہیں۔یہ عادت مجھے انہوں نے ڈالی کہ ان سب کو ٹپ دینی ہے حالانکہ انہوں نے ٹپ کا لفظ نہ سنا تھا نہ پڑھا کیونکہ وہ دو تین جماعت کے بعد سکول نہیں گئی تھیں۔ان کا کہنا تھا وہ سب تمہارا کمرہ بستر صاف ستھرا رکھیں گے، تمہارے بھاگ کر کام کر دیا کریں گے۔ کھانا کمرے میں لا دیا کریں گے۔ اماں نے مجھے پیسے کا استمعال سکھایا کہ کیسے اس سے زندگی آسان ہوسکتی ہے۔ پھر وہ ان اضافی پیسوں سے گھر بچوں کے لیے کچھ لے جائیں گے تو خوش ہوں گے۔