words per minute
26
FahadTahir
00:00
Speed
غم کھاتی ہوں مگر میری نیت نہیں بھرتی
کیا غم ہے مزے کا کہ طبیعت نہیں بھرتی
نہ پوچھو میری حالت کہ اِس دل کے لگانے سے
پرہشاں، سینہ سُوزاں، مُنفَعِل، سَردَر گریباں ہوں
اُسے فضل کرتے نہیں لگتی بار
نہ ہو اس سے مایوس، امیدوار
پھر بہار آتی ہے تجھ میں، اے گلستاں! غم نہ کھا
وہ چلی آتی ہے فوجِ عَندَلیباں، غم نہ کھا
گو کہ شب آخر ہوئی، اے شمع! تو زاری نہ کر
پھر وہ محفل، وہی تیرا شَبستاں، غم نہ کھا
میری جان کے جانے میں جب عرصہ رہا تھوڑا
تب اس کے دل میں آیا دھیان میرے پاس آنے کا
بلبل کو خزاں میں جان کھوتے پایا
صیاد کو سر پٹک کے روتے پایا
گل چیں کی بھی نیند اڑ گئی
جو اہلِ دَول تھے، ان کو سوتے پایا
کسی کی مرگ پر اے دل نہ کیجے چشم تر
بہت سا روئیے اُن پر جو اِس جینے پہ مرتے ہیں
ہاتھ آتی ہے کب علم و ہُنر سے دولت
ملتی ہے قضا اور قَدر سے دولت
جو علم و ہُنر رکھتے ہیں، وہ ہیں محروم
مانوس ہے بَل احمق و خَر سے دولت