words per minute

6

Mohsin_56


00:00

Speed

انسان تنوع پسند ہے اور تغیر پند بھی کبھی تو اس کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ اس کے دل کو بھا جانے والی ہر چیز کو بھی زوال نہ آئے۔ پھول ہمیشہ کھلے رہیں، بہار بھی لوٹ کر نہ جائے جوانی اور اس کی توانائیاں ہمیشہ ہمیشہ باقی وبرقرار رہیں۔ حسن کا ہر مظہر سدا بہار رہے بلکہ اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ مصنوعی پھول بناتا ہے، زوال پذیر حسن کا میک اپ کرتا اور میک اپ کے سامان کے انبار لگاتا اور بیوٹی پارلر کھولتا ہے۔ انسانی فطرت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ تغیر پسند ہے۔ آج جس چیز کی تمنا اور اس کے حصول کے لیے تگدو کرتا ہے، وہ مل جائے تو اس سے اکتانے لگتا ہے۔ سردیوں میں گرمیوں اور گرمیوں میں سردیوں کے آنے کی دعا کرتا ہے۔ ہر پسندیدہ غذا شوق سے کھاتا ہے مگر اس سے چند دن بعد تنگ آ جاتا ہے۔ کتنے کروڑ پتی بھی بن کر دنیا میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ فیشن بدلتے ہیں، اور ذہن بھی۔ ناشکرا انسان تو اللہ تعالی کی نعمتوں سے بھی منہ موڑ لیتا ہے۔ حتی کہ حضرت موسی کی قوم من و سلوئی میں بھی تبدیلی کی خواہاں ہو جاتی ہے۔ پسند اور ناپسند اپنی جگہ، حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا حسن اور دوام تغیر سے وابستہ ہے۔ علامہ اقبال نے یہ پتے کی بات ایک تمثیلی انداز میں بانگدرا میں سمجھائی ہے کہ حسن نے اللہ تعالی سے شکایت کی کہ اسے پیشگی کیوں نہ بخشی تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ دنیا ایسا تصویر خانہ ہے جس کی پرچھائیاں مسلسل بدلتی ہیں اور حقیقت میں حسن کی قدر بھی تغیر سے وابستہ ہے۔ کائنات کا سارا نظام تغیر اور تبدیلی سے وابستہ ہے۔ دن رات بدلتے ہیں، موسم تبدیل ہوتے ہیں۔سمندروں میں مد اور جزر باری باری آتے جاتے ہیں۔ ابھی تبدیلیوں سے پورا نظام فطرت بخوبی چل رہا ہے۔ نہ صرف مادی دنیا کا نظام بلکہ خود انسان بھی نظام فطرت کا ایسا کارکن ہے جو تغیر وتبدل کے لیے کوشاں رہتا ہے۔
words per minute
0
wpm
accuracy
0%
Text Practice - Time 648 - English

words per minute