words per minute

11

usmanali0033


00:00

Speed

اسلامی تاریخ کا جب ہم ذکر کرتے ہیں۔ تو دیکھتے ہیں یہ بہت سے بہادر سے بہادر و دلیر سپہ سالاروں کے کارناموں سے بھری پڑی ہے۔ ان میں سے ایک سالار حضرت خالد بن ولی بھی ہیں جن کے زکر کے بغیر اسلامی تاریخ ادھوری ہے۔ حضرت خلد بن ولید کا تعلق قیش کے اونچے گھرانے سے تھا۔ آپ بہت بہدر و دلیر تھے۔ مگر قُبولِ اسلام سے پہلے اسلام کے بہت بڑے دشمن بھی اسی لیے جنگِ احُدتک ہمیشہ مسلمانون کے خلاف لڑتے رہے جنگِ اُحد میں بھی قریش کے سواروں کی کمان اُنھی کے ہاتھ میں تھی اور ان کے لیے جنگِ اُحدتک ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف لڑتے رہے جنگِ اُحد میں بھی قریش کے سواروں کی کمان اُنھی کے ہاتھ میں تھی اوران کے حملے سے مسلمانوں کوکافی نقصان اٹھانا پڑا۔ حضرت خلدبن ولید نے فتح مکہ سے پہلے مدینہ جاکر اسلام قبول کیا اور اسلام کا وہ سپہ سالار کہلائے جنھوں نے لاکھوں مخالفین اسلام کو شکست دے کر اسلام کا پرچم بلند کیا۔ اور جن کو رسول اللہؐ نے "ایف اللہ" یعنی اللہ کی تلوار کا لقب عطا فرمایا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد جنگ موتہ میں مسلمانوں کی فوج کے سپہ سالار بنے۔ اس جنگ میں مسلمانوں کا لشکر صرف تین ہزار کا تھا اور رومی فوج دو لاکھ سے کم نہ تھی۔ خلد بن ولید نے ان مُٹھی بھر مسلمان بہدروں کواس خوبی سے لڑایا کہ رومی فتح سے مایوس ہوکر بھاگ گئے۔ اس جنگ میں خالدبن ولید کے ہتھ میں نوتلواریں ٹوٹیں، مدینہ پہنچے تو بارگاہ رسالت سے "سیف اللہ " کا خطاب پایا۔ حنین کی جنگ میں زخمی ہوئے، طائف کی جنگ میں کامیابی حصل کی اور کئی رسول پاکؐ کے وصال بعد حضرت ابوبکر کے عہد میں جتنے فتنے اٹھے ان سب کی روک تھام کے لیے حضرت خلد نے شاندار کارنامے انجام دیے۔
words per minute
0
wpm
accuracy
0%
Text Practice - Time 653 - English

words per minute